Google source by Snn.tv

 اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کےدور حکومت میں ایک میگاواٹ بجلی پیدا نہیں کی گئی ، ایک کلومیٹر سڑک تک ان سے نہیں بنی۔ ہم نے ایل این جی کے ٹرمینل بنائے اور پاور پلانٹس لگائے ، تحریک انصاف کی حکومت نے ہم سے ڈھائی گنا زیادہ قرض حاصل کیا ، ایندھن مہنگا ہوا مگر سولر سسٹم لگانےکی طرف نہیں گئے۔ دنیا میں ایندھن مہنگا اور سولر توانائی سستی ہو گئی، ڈھائی ہزار میگاواٹ کا پاور پلانٹ اس لیے بند تھا کہ اس کی مرمت نہیں ہوئی تھی ، 5 ہزار میگا واٹ کے پلانٹس اس لیے تھے کہ ایندھن نہیں تھا وزیر خزانہ کا کہنا تھا عمران خان حکومت میں جو معاہدے ختم ہوئے نہ ان کی تجدید کی گئی نہ نئے معاہدے ہوئے۔ گذشتہ حکومت نے ایل این جی کے شارٹ ٹرم معاہدے کیے ، آج جو ملک میں بجلی آرہی ہے وہ ہمارے معاہدوں کی وجہ سے آرہی ہے، لانگ ٹرم معاہدوں کو کرمنلائز کردیا ، لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔


مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا عمران خان کی حکومت گیس پر 1300 ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ چھوڑ کر گئی ، صرف توانائی کے شعبے میں گذشتہ حکومت نے 1350 ارب روپے کا نقصان کیا ، عمران خان نے اس ملک کو گیس کی لوڈشیڈنگ دی ، پی ٹی آئی کے دور میں بل وصولی اور خراب ہوئی۔


ان کا کہنا تھا جب میاں شہباز شریف نے حلف اٹھایا تو ساڑھے سات ہزار میگا واٹ سسٹم میں موجود نہیں تھی ، آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال گردشی قرضوں میں 800 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔


وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا گذشتہ چار سالوں کے دوران غلط پالیسیز کی وجہ سے ملکی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی ، ہم نے آکر کر ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا ، معیشت صرف پیٹرول پر سبسڈی دینے سے تباہ نہیں ہوئی ، 74 سال میں جتنا قرض لیا گیا تھا عمران خان نے 4 سالوں میں اتنا قرض لے لیا ، عمران خان کےدور حکومت کے پہلے سال بجٹ خسارہ 9.1 فیصد تھا جبکہ گذشتہ جی ڈی پی کا خسارہ 9 فیصد تھا۔ انہوں نے خسارے کو دگنے سے بھی زیادہ کردیا۔