سکھر: مون سون بارش کا سلسلہ ایک بار پھر شروع،گذشتہ رات ہونے والی بارش نے انتظامیہ کی کارکردگی پول کھول دی شہر کے مختلف رہائشی و کاروباری علاقوں سے برساتی پانی کی نکاسی کا عمل شروع نہ ہوسکا شہریوں کو پریشانی کا سامنا ،شہری و سماجی حلقوں کا وزیر بلدیات و بالا حکام سے نوٹس لینے کا پرزور مطالبہ
تفصیلات کے مطابق ملک کے دیگر شہریوں سمیت سکھر میں بھی گذشتہ رات طوفانی ہواؤں کیساتھ ہونی والی بارش کے بعد سکھر انتظامیہ کی مثالی کارکردگی کی قلعی کھل گئی ہے انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کے باعث شہر کے رہائشی و تجارتی و کاوباری مرکزو شاہراہ برساتی و ڈرینج کا پانی جمع ہوگیا اور اسکو نکالنے کا عمل کئی گھنٹوں بعد بھی شروع نہیں کیا جسکا ہے سکھر انتظامیہ کی جانب سے صفائی کے بلند بانگ دعوئوں کے باوجود ابتک متاثرہ علاقوں میں صفائی کے انتظامات بھی بہتر نہیں بنایا جاسکے ہے شہر کے مختلف علاقوں جیل موڑ روڈ،ایوب گیٹ،گھنٹہ گھر، اسٹیڈیم روڈ ،مینارہ روڈ،جیلانی روڈ ،ایوب گیٹ ، ،رہس
کورس روڈ ،سوکھا تالاب،ریلوئے انجن شیڈ کالونی،نیو پنڈ ،گڈانی پھاٹک،مائیکرو کالونی ،بھوسہ لائن، قریشی گوٹھ ،نمائش چوک ،پرانہ سکھر ،مہران مرکز سمیت شہر کے مختلف رہاشی علاقوں میں برساتی پانی جمع ہے وہی نالیاں اور گٹر ابلنے سے ڈرینج کا گندہ پانی بھی جمع ہو کر تالاب کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے صفائی نہ ہونے کی وجہ سے گندگی کے ڈھیر جمع ہو چکے ہیں ،بلدیہ اعلی سکھر کے ناقص انتظامات پر شہری حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ ، صوبائی وزیربلدیات ،کمشنر ،ڈپٹی کمشنر ،ایڈمنسٹریٹر ،میونسپل کمشنر سمیت دیگر بالا حکام سے نوٹس لیکر شہریوں کو بلدیاتی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
مذید پڑھیۓ
سکھرمحکمہ پبلک ہیلتھ میں گذشتہ چار سالوں سے کانٹریکٹ پر کام کرنے والے سب انجنئیر نے مسقتل نہ کرنے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے زیر قیادت انجنئیر فرحان اللہ چاچڑ،علی رضا شیخ،صدام کلہوڑو ،شفی احمد،علی حسن گڈانی و دیگر کے احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعریبازی کرتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ واٹر کمیشن کے احکامات پر پبلک ہیلتھ 2018میں انجنئیرینگ ڈپارٹمنٹ میں 191سب انجنئیر کو کانٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا جو چار سالوں سے اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں اور ہمارے کانٹریکٹ میں کبھی سال تو کبھی چھ مہینے کی توسیع کی جارہی ہے انتہائی افسوس کیساھ کہنا پڑتا ہے کہ ڈپارٹمنٹ میں 310 انجنئیر کی خالی آسامیاں موجود ہیں اور کانٹریکٹ سب انجنئیر کو نظر انداد کیا جارہا ہے جو سراسر ظلم ہے ہماری اپیل و درخواستوں کے باوجود کوئی پرسان حال نہیں ہے افسران اس جانب توجہ دینے کو تیار نہیں ہم اپنے حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ابتک ہمیں ہمارا حق فراہم نہیں کیا جارہا ہے مظاہرین نے بالا حکام سے نوٹس لیکر پبلک ہیلتھ انجنئیرینگ ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے والے تجربے کار سب انجنئیر کو مستقل کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔





1 تبصرے
Bhai sukkur ka yehi hal rahega kiyun k yahan ki awaam hamesha inhe logon ko muntakhib krti hy jinho ny sukkur ka ye hall banaya hua hy
جواب دیںحذف کریںThank you very much for expressing your thoughts