سکھر میں غیر رجسٹرڈ تاجر تنظیموں میں تیزی سے اضافہ


لکڑی سے تیار کردہ فرنیچر بنانے اور فرنیچر بیچنے والوں چند تاجروں نے تنظیم بنالی سکھر شہر میں غیر رجسٹرڈ تیزی سے تاجر تنظیموں میں مزید اضافہ ہونا شروع ہو گیا ۔ کچھ روز قبل بھٹہ روڈ پر لکڑی سے تیار کردہ فرنیچر بنانے اور فرنیچر بیچنے والوں چند تاجروں نے تنظیم بنالی، اس کے ساتھ ہی سکھر گزشتہ ہفتہ میانی روڈ سمیت دیگر چند علاقوں میں بلڈنگ میں استعمال ہونے والے تعمیراتی مٹیریل بیچنے والوں نے بھی سیاستدان، بیورو کریسی میں جگہ بنانے کیلئے تنظیم بنائی، حیرت کی بات ہے کہ سکھر میں پہلے ہی دو درجن سے زائد غیر رجسٹرڈ چھوٹی بڑی تنظیمیں شہر میں موجود ہیں جس میں سے زیادہ تر کے عبید اران خود نمائی کے لیے کمشنر، ڈپٹی کمشنر، اسٹنٹ کمشنر ہئیر منتخب کے ساتھ تصاویر بنا کر سرکاری محکموں کے افسران اور اہلکاروں پر روپ جھاڑتے ہیں مگر تاجروں کے مسائل حل کرنے میں غیر سنجیدہ ہیں، جن کو شہریوں نے سوشل میڈیا پر خوب تنقید کر رہے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ سکھر میں آئے روز اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہو رہا ہے شہر میں آئے روز تاجروں کے ساتھ لوٹ مار موٹر سائیکل، مو بائل فون اور نقدی چھین جانا معمول کی بات ہے۔ اسٹریٹ کرائم پر کوئی بھی تاجر تنظیم آواز اٹھاتی ہے اور نہ ہی لٹ جانے والے تاجر سے کوئی افسوس یا کوئی تسلی نہیں دیتی مزید شہری حلقوں کا کہنا تھا کہ یہ تاجر تنظیموں کے عہدے دار اعلیٰ افسران کے ساتھ تصویریں وسیلفیاں لینے میں سب سے آگے ہوتے ہیں اور تاجروں کے مسائل کی کوئی بھی تنظیم بات نہیں کرتی یہ تنظیمیں اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے بناتے ہیں۔