سکھرضلعی انتیظامیہ سکھر کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر سکھر سٹی ثوبیہ فلک راؤ کی سربراہی میں کھلی کچہری کا انعقاد سکھر مہران کلچرل کمپلیکس کیا گیا جس میں میں اسسٹنٹ کمشنر سکھر سٹی کے ساتھ ساتھ مختیار کار بابر بلو، سکھر میونسپل کارپوریشن، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، اینٹی انکروچمنٹ فورس، محکمہ پولیس اور ٹریفک کے افسران و عملہ بھی موجود تھا کھلی کچہری مکمل طور پر ناکام دکھائ دی جسکا اندازہ کمپلیکس میں موجود خالی کرسیوں کو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے سکھر شہر کی جتنی بڑی آبادی ہے اسکے مسائل بھی اتنے ہی زیادہ ہیں مگر کھلی کچہری میں شہریوں نے شرکت ہی نہیں کی جنہوں نے شرکت کی وہ شہری کھلی کچہری میں کھل کر افسران سے کچہری ہی نہیں کر پاۓ جسکی وجہ وہاں پر موجود چند افسران تھے جنکے ڈر سے کچھ انکو دیکھ کر باہر سے ہی لوٹ گۓ اور کچھ نے اپنے ساتھ درپیش مسائل کی بات ہی نہیں کی سکھر شہر میں اس وقت مسائل کی بھرمار ہے سول ہسپتال، تھانوں پر رشوت، شہر میں گندگی کے ڈھیر،پبلک ہیلتھ، ودیگر کے مسائل آج تک کوئ حل نہیں کرپایا اگر ہم بات کریں تجاوزات کی تو اسکے خلاف بھی بہت آپریشن کیے گۓ مگر آپریشن کے اگلے ہی روز سے نہیں بلکے آپریشن کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد ہر چیز وہیں اپنی جگہ خود آجاتی ہے سول میں غریبوں کو دوائیاں فراہم نہیں کی جاتیں سب سے اہم اور بڑا مسلہ انتیظامیہ کے ساتھ موجود افسران خود ہیں انٹی انکروچمنٹ کا عملہ سارا دن ایس ایم سی کی گاڑیوں کے ساتھ شہر بھر میں دندناتا پھرتا ہے اسکے باوجود شہر بھر میں تجاوزات کی بھرمار ہے متعدد بار انتیظامیہ کی جانب سے تجاوزات کے لیۓ آپریشن کیۓ مگر محکمہ اینٹی انکروچمٹ میں موجود کالی بھیڑیں رشوت کے عیوض انہیں پھر سے اپنی من مانی کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں پھر ہر ہفتے اپنی جیب گرم کر کے چلے جاتے ہیں انکار کرنے پر انکے ساتھ پھر سے وہی نارواں سلوک کیا جاتا ہے انکا سامان اپنی تحویل میں لیکر ان سے اپنے دفتر کے چکر لگواۓ جاتے ہیں انکی تزلیل کی جاتی ہے شہر کی خوبصورتی کو قائم رکھنے میں اگرچہ شہریوں کا بھی بنیادی کردار ہوتا ہے لیکن شہریوں کو ایک قانون اور ضابطہ کے ذریعے کسی نقطہ پر متحد و یکجا رکھا جا سکتا ہے قانون اور ضابطہ کی تمام عملداری بیوروکریسی کی ہوتی ہے لیکن بیوروکریٹ محض اپنی کرپشن کو بچانے کیلئے قانون اور ضابطوں کا کھلے عام قتل کرتے ہیں جس سے معاشرے میں خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اور اس وقت سکھر شہر ایسی ہی خرابیوں کامرکز بن گیا ہے ناجائزتجاوزات نے تمام شہرکا نہ صرف حلیہ بگاڑ دیا ہے بلکہ پیدل چلنے والوں سے ان کے چلنے کا حق تک چھین لیا گیا ہے۔

شالیمار، گھنٹہ گھر، بیراج روڈ، ملٹری روڈ شکار پور پھاٹک،جناح چوک، اس کے علاوہ اندرون شہر کی تمام شاہرات اہم ترین گذرگاہیں جہاں پرتجاوزات اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ 30 سے چالس فٹ کی سڑک 20فٹ رہ گئی ہے جس پر گاڑیوں ،رکشوں ،موٹر سائیکل اور ریڑھیوں کا اس قدر رش ہوتاہے کہ پیدل چلنے والے سخت اذیت کا سامنا کرتے ہیں دوسری جانب ٹریفک کی روانی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے ایک ٹریفک پولیس اہلکار نے نام شائع نا کرنے پر بتایا کے جب میری ڈیوٹی گھنٹہ گھر پر لگی تھی تو ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو رہی تھی موبائل مارکیٹ کے گیٹ کے پاس ایک نام نہاد شربت کی ریڑھی لگانے والا شخص بہت جگہ گہرے ہوۓ تھا میں نے اسکو ریڑھی وہاں سے ہٹانے کو بولا اور کہا کے آپکی رہڑھی کی وجہ سے موبائل مارکیٹ آنے والے لوگوں کو آنے جانے میں تکلیف ہو رہی ہے یہ رہڑھی آپ یہاں سے نکالو تو اس رہڑی والے کے لئے مجھے خود انکی کال آگئ جنکا کام انہیں وہاں سے ہٹانا ہے انٹی انکروچمنٹ کا عملہ صرف کاغذوں میں کام کرتا نظر آتا ہے ان کے علاوہ ایم این اے ،ایم پی اے ،ڈی سی ،اے سی روزانہ ان شاہرات سے گزرتے ہیں لیکن بے حسی اور لاپرواہی کی اس قدر انتہا کہ وہ ان تجاوزات کی جانب کوئی موثر اقدام اٹھانے کیلئے تیار نہیں طرفہ تماشہ تو یہ ہے کہ گھنٹہ گھر، نیم کی چاڑی،بیراج روڈ، میانی روڈ، پر کئ کیبن ریڑھیاں اور ساتھ ساتھ تھڑے قائم کیۓ ہوۓ ہیں جو کہ صریحاً غیر قانونی ہیں چونکہ ان کو انکروچمنٹ کے ایک نام نہاد ملازم الف کی سرپرستی حاصل ہے ناجائز ہونے کے باوجود انہیں ختم نہیں کیا جا سکتا ان دکانوں کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر یہاں حادثات اور لڑائی جھگڑے کے واقعات ہوتے ہیں اور ٹریفک بھی بلاک ہو جاتی ہے لیکن کوئی مائی کا لال ان ناجائز و غیر قانونی ناجائز تجاوات پرمبنی ٹھیلوں پتھاروں کو ہٹا نہیں سکا ہے اور کوئ ہٹا بھی نہیں سکے گا کیونکے افسران کا چار ماہ چھے ماہ میں تبادلہ ہو جاتا ہے لیکن الف چ جیسے نیچے کام کرنے والے شہر میں دن رات اپنی جیبیں گرم کرنے کے لیۓ دندناتے پھرتے ہیں اسسٹنٹ کمشنر سکھر سٹی ثوبیہ فلک راؤ جیسی فرض شناس افسر کی جانب سے متعدد بار محکمہ اینٹی انکروچمنٹ عملے کے ساتھ ملکر شہر سے تجاوزات کے خاتمے کے لیۓ عملی طور پر اقدام کیۓ مگر وہ بھی اس سسٹم کے آگے بے بس دکھائ دینے لگیں میڈم کو عملے کی جانب سے نشاندہی صرف انہی لوگوں کی کرائ جاتی ہے جو لوگ الف چ جیسے لوگوں کے ساتھ ہفتہ نہیں باندھتے محکموں میں موجود ایسی کالی بیھڑوں کی وجہ سے ثوبیہ فلک راؤ اور مختیار کار بابر بلو جیسے فرض شناس افسر کی بھی ساخت متاثر ہو رہی ہے انہیں کیا معلوم کے مجھے جس شخص کی نشاندہی کرائ جا رہی ہے اس سے انکے عملے کے کیا معملات چل رہے ہیں ان کرپٹ عملے کی نشاندہی پر انکو موقع پر ہی جرمانہ عائد کردیا جاتا ہے بعد میں انہی کا عملہ انکو مجبور کر کے اپنی منتھلی فکس کرلیتا ہے افسران کو چاہیۓ کے وہ خود معاملے کی جانچ پڑتال کیا کریں بہت سے لوگوں کو افسران سے ملنے تک نہیں دیا جاتا باہر بیٹھا عملہ مسلسل انسے جھوٹ بولتا ہے کے صاحب نہیں آۓ میڈم کی اندر میٹنگ چل رہی ہے صاحب وزٹ پر نکلے ہوۓ ہیں صاحب ابھی بزی ہیں تھوڑی دیر میں چکر لگانا وغیرہ وغیرہ افسران اپنے عملے کے ساتھ میٹنگ کرتے ہیں جبکے افسران کو دفتر آنے والے ایک عام آدمی سے اکیلے میٹنگ کرنا چاہیۓ تاکے وہ کھل کے مسلہ بیان کر سکے ورنہ اس طرح کی کھلی کچہری عوام کے لیۓ بے مقصد ہے جس میں عوام آۓ نہ اور جس طرح گذشتہ روز ہونے والی کھلی کچہری کو عوام نے مسترد کیاجب تک افسران کے آفس کے دروازے ایک عام آدمی کے لیۓ نہیں کھلینگے جب تک مسائل حل نہیں ہونگے،، اور وہ بند دروازے نہ کبھی کھلینگے اور نا ہی کالی بھیڑیں ختم ہونگی،