Health issues in Sindh,Gender Discrimination, and Influencer Role in Health problem facing in Rural and Urban Sindh Focus Group Discussion with Dr Saeeda Khan Center for Evaluation and Development Supported by UNICEF with Advocate Mr.Sardar Illahi Bux Bhatti, At Bhatti House

سندھ میں شہری اور دیہی علاقوں میں درپیش صحت کے مسائل،ڈاکٹر سعیدہ خان سینٹر فار ایویلیوایشن اینڈ ڈویلپمنٹ کے ساتھ یونیسیف کے تعاون سے  فوکس گروپ ڈسکشن 
بھٹی ہاؤس سکھر میں سینٹر فار ایویلیوایشن اینڈ ڈیولپمنٹ ڈاکٹر سعیدہ خان نے کہا کے C4ED میں، ہم سمجھتے ہیں کہ ترقیاتی کوششیں ثبوت پر مبنی، شفاف اور جوابدہ ہونی چاہئیں۔ ہم شواہد پر مبنی فیصلہ سازی پر سخت توجہ کے ساتھ مسائل سے نمٹنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے پروگراموں کی تاثیر کو بیک وقت اور مسلسل بہتر بناتے ہوئے ضرورت مند لوگوں کی مدد کے لیے موجودہ شواہد کو شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ترقیاتی پروگراموں اور منصوبوں کی تاثیر کا اندازہ لگانے کے لیے ہم سخت تشخیصی طریقے استعمال کرتے ہیں، جنہیں ماہرین کی ایک ٹیم نے فوکس کے شعبے کے مطابق منتخب کیا اور کروایا۔ ایک مربوط اور جامع نقطہ نظر کے ساتھ ہم بہتری اور اختراع کے شعبوں کی نشاندہی کرنے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ ہمیشہ رابطے میں اور مسلسل تبادلے میں رہتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ پائیدار ہونے کے لیے ترقی کو جامع اور مربوط ہونا چاہیے، اور ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا کام ان اقدار کی عکاسی کرے۔ لہذا، ہم مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کام کرتے ہیں، بشمول حکومتیں، سول سوسائٹی کی تنظیمیں، نجی شعبے کی فرموں، اور مقامی کمیونٹیز، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہماری مداخلتیں ان لوگوں کی ضروریات کے لیے جوابدہ ہوں جن کی ہم خدمت کرتے ہیں صحت کے موضوع پر انہوں تمام شرکت کندہ سے الگ الگ راۓ لی اور HPV ہیومین پیپیلوما وائرس کے متعلق کچھ سوال بھی کیۓ
Dr. Saeeda Khan is noting the opinion given regarding the health of Advocate Elahi Bakhsh


ایڈوکیٹ الہی بخش انیل بھٹی نے کہا تعلیم ملک و معاشرے کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتی ہے تعلیم کی کمی کے ہی باعث لوگوں کو ایچ پی وی یا دیگر بیماریوں کا علم ہی نہیں آبادی اور وسائل میں توازن نہ ہونے کی وجہ سے سندھ کی ایک بڑی تعداد کو تعلیم اور صحت کی معیاری سہولیات دستیاب نہیں جبکہ ایک بڑے حصے کو شدید قسم کی غربت، بے روزگاری، غذائی قلت، پینے کے صاٖف پانی کی قلت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ملک کی ایک تہائی کے قریب آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے جبکہ نصف کے قریب آبادی غذائی قلت کا شکار ہے موجودہ حکومتوں کو اس حوالے سے اہم 
فیصلے اور اقدام کی ضرورت ہے


یونیسف، پاکستان سمیت دُنیا بھر میں ہر ایک لڑکی اور لڑکے کے لیے صحت کی سہولیات کے حق سے متعلق شعور اُجاگر کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہے، جن میں حفاظتی ٹیکے، غذائیت، تعلیم، تحفظ؛ پانی، صفائی اور حفظان صحت اور سماجی تحفظ کی فراہمی شامل ہے اور ادارے کی خصوصی توجہ اُن بچوں اور نوجوانوں پر مرکوز ہے جو شدید غربت کا شکار خاندانوں اور دوراُفتادہ علاقوں میں رہتے ہیں۔
تقریباً چھے دہائیوں سے یونیسف بچوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے دنیا کی رہنمائی کررہا ہے اور 156 ممالک اور خطوں میں سرگرمِ عمل ہے تاکہ بچپن سے لے کر جوانی تک بچوں کو زندگی کا حق دینے اور ترقی کی منازل طے کرنے میں مدد کی جا سکے۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے ویکسین فراہم کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ادارہ، یونیسف بچوں کی صحت اور غذائیت، اچھے پانی اور صفائی ستھرائی، تمام لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے معیاری بنیادی تعلیم، اور بچوں کو تشدد، استحصال اور ایڈز سے تحفظ فراہم کرنے میں کوشاں ہے۔ یونیسف کے تمام تر مالی وسائل افراد، کاروباری اداروں، فاؤنڈیشنز اور حکومتوں کے رضاکارانہ تعاون سے ممکن بنتے ہیں اس موقع پر مسٹر خالد بھابن، اشفاق کھوسو، 
شعبان بھٹی، ریاض ابڑو، ودیگر موجود تھے
بیوروچیف زاہد شیخ