مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے نائب صدر، سکھر اسمال ٹریڈرز کے صدر حاجی محمد جاوید میمن نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے غربت، مہنگائی بیروزگاری کی چکی میں پستی عوام کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے بجائے تعلیم جیسے مقدس پیشہ کو بھی تباہ و برباد کرنے پر تلی ہوئی ہے،والدین اپنی تمام تر ضروریات کا گلا گھونٹ کر اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلانے کیلئے انتہائی کٹھن حالات سے گزر رہے ہیں،نجی اسکولز پر 15 فیصد ٹیکس عائد کرنے سے اس کا بوجھ بھی والدین پر ہی پڑیگا جس سے طلبہ کی ایک بڑی تعداد تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہو جائیں گے جس کے ملکی ترقی پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے،28اگست کو مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کی جانب سے بڑھتی ہوئی مہنگائی، غربت، بیروزگاری، آئے روز کی بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافے، نام نہاد تاجر دوست اسکیم سمیت نت نئے ٹیکسز کے خلاف ملک گیر شٹر ڈاﺅن ہڑتال ہوگی جس میں کراچی سے خیبر تک تمام تجارتی مراکز مکمل طور پر بند رہینگے تاکہ حکومت کو عوام اور تاجروں دشمن اقدامات واپس لیکرعوام کو ریلیف فراہم کرنے پر مجبور کیا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایسوسی ایشن آف پرائیوٹ انسٹیٹیوشنز سندھ کے چیئرمین بشیر احمد چنہ کی قیادت میں اے پی آئی سندھ کے وفد جس میں سینئر وائس چیئرمین محمد اقبال خان، کو آرڈینٹر فیاض پٹھان، شہزاد رضا، شہباز خان، رئیس احمد و دیگرسے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرایسوسی ایشن آف پرائیوٹ انسٹیٹیوشنز سندھ کے چیئرمین بشیر احمد چنہ نے 28 اگست کو ہونیوالی شٹر ڈاﺅن ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے حاجی محمد جاوید میمن کو نجی اسکولز کے درپیش مسائل خصوصا ایف بی آر سے منسلک مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اسکولز جو پہلے ہی مختلف قسم کے ٹیکسز ادا کرتے ہیں ان پر مزید ٹیکس سے براہ راست عوام متاثر ہونگے اور نجی شعبہء تعلیم بھی سرکاری شعبہء تعلیم کی طرح بیٹھ جائے گا۔ وفد کے اراکین سے بات چیت کرتے ہوئے حاجی محمد جاوید میمن کا مزید کہنا تھا کہ نجی اسکولز معیاری تعلیم کی فراہمی میں حکومت کا ہاتھ بٹا رہے ہیں، ایک جانب حکومت عوام کو معیاری اور مفت بہتر تعلیم فراہم کرنے کے دعوے کر رہی ہے تو دوسری طرف تعلیم پر ہی ٹیکسز عائد کر کے طلبہ کیلئے تعلیم حاصل کرنے کے دروازے بند کر رہی ہے، غربت، بیروزگاری ، مہنگائی سے تنگ والدین پہلے ہی اپنے بچوں کے تعلیم اخراجات پورے کرنے کیلئے شدید پریشانیوں اور دشوار کن صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ اس کے باوجود حکومت کی جانب سے جہاں صنعت و تجارت کاروبار پر بے جا اور ظالمانہ ٹیکس عائد کر کے تجارت کو تباہ و برباد کر دیا ہے، اسی طرح تعلیم فراہم کرنے والے نجی اسکولز پر بھی 15فیصد سیلز ٹیکس عائد کر کے تعلیم دشمن اقدامات اٹھا رہی ہے، جسے ملک بھر کی عوام کسی بھی صورت قبول نہیں کرینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ 28 اگست کو مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کی جانب سے کی جانیوالی ملک گیر شٹر ڈاﺅن ہڑتال صرف تاجروں کیلئے بلکہ پاکستان کی کروڑوں عوام کی بہتری کیلئے ہے، انشاءاللہ 28 اگست کو ملک گیر مکمل شٹر ڈاﺅن ہڑتال کر کے حکومت کو واضح پیغام دینگے کہ ہم ایسے کسی بھی تاجر اور عوام دشمن اقدامات کو قبول نہیں کرینگے،اگر حکومت نے فوری طور پر بے جا ٹیکسز کا خاتمہ کر کے تاجروں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے تو ہم اپنی احتجاجی تحریک کو وسیع کرتے ہوئے غیر معینہ
مدت کیلئے شٹر ڈاﺅن ہڑتال بھی کرسکتے ہیں۔
![]() |
| بیوروچیف زاہد شیخ |




0 تبصرے
Thank you very much for expressing your thoughts