جماعت اسلامی صوبہ سندھ کے امیر سابق رکن قومی اسمبلی محمد حسین محنتی سکھر پریس کلب میں  پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

جماعت اسلامی سندھ کے امیر محمد حسین نے مجوزہ آئینی ترمیم کے معاملے کو پارلیمنٹ اور عدالتی نظام کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل جمہوری روایت کے منافی ہے۔ حکومت اس اقدام کے زریعے جمہوریت پر شب خون مارنے جارھی ھے، جو ملک و قوم اور خود حکمران جماعتوں کیلئے نقصان دہ ھوگا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف بل پاس کرنے کی مذمت کرتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز سکھر پریس کلب میں ضلعی امیر مولانا حزب اللہ جکھرو کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،  قبل ازیں پریس کلب کے صدر آصف ظہیر خان لودھی نے انکا خیر مقدم کرتے سندھی ٹوپی اور اجرک کا تحفہ پیش کیا اور خیرمقدمی کلمات میں پریس کلب کی پیشہ وارانہ صحافتی سرگرمیوں اور آزادی صحافت کیلئے جدوجہد سے آگاہ کرتے ھوئے آزادی صحافت کیلئے سکھر کے صحافی جان محمد مہر کو شہید کیا جانے کا بطور خاص تُذکرہ کیا، امیر جماعت اسلامی سندھ محمد حسین محنتی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ملک بھر میں عموما سندھ میں خصوصاً بدامنی عروج پر ھے، سندھ بد امنی کی آگ میں جل رھا ھے، اغواء برائے تاوان، ڈکیتی رہزنی کی وارداتیں عام ھیں کوئی فرد محفوظ نہیں، پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی آئینی زمہ داریوں کو ادا کرنے میں مکمل ناکام رھی ھے، انہوں نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان کی قیادت میں بد امنی اغواء برائے تاوان کیخلاف 21 ستمبر کو کندھ کوٹ میں احتجاجی دھرنا دیا جائیگا ریلی نکالی جائے گی احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔ جس میں عوام کو بھرپور شرکت کی دعوت دی جاتی ھے، انہوں نے کہا کہ کچے اور پکے کے ڈاکوؤں کو حکمران جماعت پی پی پی کی سرپرستی حاصل ھے، وہ پچھلے 18 سال سے سرپرستی کر رھے اور کچے اور پکے کے عوام کو لوٹ رہے ہیں، ظالمانہ استحصالی نظام اور استحصال کرنے والوں سے نجات کیلئے عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں گے اور ایسے حکمرانوں کو نکال باہر کریں گے۔
بیوروچیف زاہد شیخ