(تحریر زاہد شیخ)


محکمہ پولیس میں غیر قانونی تعیناتی: صرف ایک فرد کی غلطی یا مجموعی غفلت؟


سندھ پولیس میں شفافیت، قانون کی پاسداری اور محکمانہ نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات قابلِ ستائش ہیں۔ آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی پالیسی کے تحت ڈی آئی جی سکھر فیصل عبداللہ چاچڑ کی جانب سے کرپشن، غیر قانونی سرگرمیوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دیگر سنگین الزامات کے خلاف کارروائی ایک مثبت قدم ہے۔ تاہم، کچھ معاملات میں صرف نچلے طبقے کے افسران کو نشانہ بنانے کے بجائے پورے نظام کی کوتاہیوں کا جائزہ لینا ضروری ہے


قادر بخش سومرو کا معاملہ: حقائق اور سوالات


سب انسپکٹر قادر بخش سومرو کی اصل تعیناتی کراچی رینج کے انویسٹی گیشن ملیر میں تھی، لیکن وہ سکھر میں ٹریفک پولیس میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ جب یہ بات محکمہ کے علم میں آئی تو ان کے خلاف مس کنڈکٹ رپورٹ تیار کر کے ایڈیشنل آئی جی، کے پی او کراچی کو ارسال کرنے کے احکامات دیے گئے۔ تاہم، اس معاملے میں کچھ بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں جن کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے:


1. قادر بخش سومرو سکھر میں کس کے حکم پر آئے؟

اگر وہ کراچی رینج کے افسر تھے تو انہیں سکھر میں تعینات کرنے کی اجازت کس نے دی؟ کسی بھی افسر کی بغیر آرڈرز کے کسی اور شہر میں تعیناتی ممکن نہیں، تو کیا یہ ایک انفرادی غلطی ہے یا اس کے پیچھے اعلیٰ افسران کی لاپرواہی شامل ہے؟



2. کئی ماہ بعد افسران کو اس معاملے کا علم کیوں ہوا؟

قادر بخش سومرو نے چھپ کر کوئی کام نہیں کیا، بلکہ کھلے عام سکھر ٹریفک پولیس میں فرائض سرانجام دیے۔ ان کے کام کی افسران نے بھی تعریف کی، انہیں تعریفی اسناد دی گئیں، اور یہاں تک کہ ترقی بھی دی گئی۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ اعلیٰ افسران کو ان کی غیر قانونی تعیناتی کا علم نہ ہو؟ اگر تھا، تو اس پر بروقت کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟

قادر بخش سومرو سکھر کے مین تجارتی مرکز گھنٹہ گھر پر اپنی ڈیوٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں



3. کیا صرف قادر بخش سومرو ہی ذمہ دار ہیں؟

اگر وہ غیر قانونی طور پر تعینات تھے، تو ان کی تعیناتی کے ذمہ دار وہ افسران بھی ہیں جنہوں نے ان کے کام کی تعریف کی، انہیں تعریفی سرٹیفکیٹس دیے، اور ترقی دینے کے لیے سفارشات پیش کیں۔ کیا ڈی آئ جی سکھر کی جانب سے ان افسران سے بھی جواب طلب کیا جائے گا؟


بہترین کارکردگی پر ضلعی افسران کی جانب سے کیش سے نوازا گیا




اگر محکمہ پولیس واقعی شفافیت اور انصاف کے اصولوں پر کاربند ہے، تو اس معاملے میں صرف قادر بخش سومرو کو موردِ الزام ٹھہرانا کافی نہیں ہوگا۔ ضروری ہے کہ:


تحقیقات کو وسیع دائرہ کار میں کیا جائے اور معلوم کیا جائے کہ ان کی تعیناتی کے احکامات کس سطح سے جاری ہوئے۔


وہ افسران بھی شاملِ تفتیش ہوں جنہوں نے ان کے کام کی تعریف کی، انہیں ترقی دی اور کئی ماہ تک ان کی تعیناتی پر سوال نہیں اٹھایا۔

ایس ایس پی امجد شیخ اپنے دفتر میں رینک پننگ کرتے ہوۓ


محکمانہ پالیسیوں کو مزید سخت کیا جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے غیر قانونی تبادلے یا تعیناتیوں کی روک تھام ہوسکے۔اگر یہ معاملہ صرف ایک فرد تک محدود رکھا گیا تو یہ ایک ناانصافی ہوگی کیونکے پورے سندھ کے افسران اپنے ساتھ اپنی ٹیم کے ایک دو افراد لیکر چلتے ہیں جنکا رینک سپاہی کا ہوتا ہے لیکن زبانی آرڈرز کے تحت وہ پی ایس او PSO ودیگر عہدوں پر تعینات ہوتے ہیں اور یہ محکمہ پولیس کے اصلاحاتی اقدامات پر سوالیہ نشان بنتا ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ پورے نظام کی کوتاہیوں کو اجاگر کیا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف مساوی کارروائی عمل میں لائی جائے_

بیوروچیف زاہد شیخ