ایس ایس پی سکھر اظہر خان مغل نے چودہ تھانوں کے ایس ایچ او بدلی کردیۓ
 
*سکھر میں جرائم پر قابو پانے کے لیے محض تبادلوں کی پالیسی کافی نہیں*

تحریر زاہد شیخ

سکھر، جو سندھ کا تیسرا بڑا شہر ہے، کئی دہائیوں سے منشیات، جسم فروشی، اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مختلف ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز کی تعیناتی کے باوجود جرائم کی سطح میں نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ پولیس فورس کی جانب سے مسلسل ایس ایچ اوز کے تبادلوں اور ماتحت عملے کی طویل عرصے تک ایک ہی تھانے میں موجودگی کے باعث، کرپشن اور غیر قانونی سرگرمیوں کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔

پولیس کے اعلیٰ حکام عام طور پر ایس ایچ اوز کو تین سے چھ ماہ کے اندر تبدیل کر دیتے ہیں تاکہ اختیارات کا ناجائز استعمال روکا جا سکے اور کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے۔
بعض اوقات ایس ایچ اوز کے تبادلے سیاسی دباؤ یا اثر و رسوخ کے تحت بھی کیے جاتے ہیں کچھ ایس ایچ اوز کی ناقص کارکردگی کے باعث انہیں ہٹایا جاتا ہے، لیکن ان کی جگہ آنے والے افسران کو بھی وہی چیلنجز درپیش ہوتے ہیں بعض اوقات تھانے میں موجود پرانے اہلکار نئے ایس ایچ او کے ساتھ تعاون نہیں کرتے، جس کی وجہ سے نیا افسر زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہتا جب ایک ایس ایچ او کسی علاقے کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل کر لیتا ہے، تو اس کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے، جس سے پولیس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے چونکہ ماتحت عملہ ایک ہی جگہ کئی سالوں تک تعینات رہتا ہے، وہ اپنے طور پر جرائم پیشہ عناصر سے سازباز کر لیتے ہیں اور نئے آنے والے ایس ایچ او کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں مستقل مزاج پالیسی کی عدم موجودگی کے باعث مجرمان پولیس کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں

اب تک کوئی بھی افسر مستقل بنیادوں پر جرائم کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوا، کیونکہ کرپٹ عناصر اور سیاسی دباؤ پولیس سسٹم کو کمزور کر دیتا ہے کئی ایماندار افسران تعینات ہوئے، لیکن انہیں یا تو محدود اختیارات دیے گئے یا پھر کرپٹ نظام نے انہیں بے اثر کر دیا۔
تھانوں میں 8 سے 10 سال سے تعینات ہیڈ محرر اور دیگر اہلکاروں کے تبادلے کیے جائیں تاکہ کرپشن کے نیٹ ورک کو توڑا جا سکے۔
ایس ایچ اوز کو کم از کم ایک سال تک کسی بھی علاقے میں تعینات رکھا جائے تاکہ وہ بہتر طریقے سے کام کر سکیں اور پولیس کو آزاد اور غیر جانبدار بنایا جائے تاکہ وہ کسی دباؤ کے بغیر جرائم کے خلاف کارروائی کر سکے اور ڈی آئی جی اور ایس ایس پی کی مدت مکمل ہونے کے بعد ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اور کمیونٹی پولیسنگ متعارف کرائی جائے شہریوں کو پولیس کے ساتھ جوڑ کر انہیں معلومات فراہم کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ منشیات اور دیگر غیر قانونی کاروبار کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے ہر تھانے میں خفیہ اہلکار تعینات کیے جائیں جو رشوت لینے والے اہلکاروں کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو دیں اور تھانوں میں جدید سی سی ٹی وی کیمرے اور مانیٹرنگ سسٹم نصب کیا جائے تاکہ ہر اہلکار کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے سکھر میں جرائم پر قابو پانے کے لیے محض تبادلوں کی پالیسی کافی نہیں، بلکہ ایک منظم اور مستقل حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ جب تک پولیس میں موجود کرپٹ عناصر کا خاتمہ نہیں ہوگا اور سیاسی مداخلت بند نہیں ہوگی، تب تک صورتحال میں کوئی نمایاں بہتری ممکن نہیں۔ اگر دیانتدار افسران کو مکمل اختیارات دے کر کام کرنے کا موقع دیا جائے اور پولیس کے نظام میں بنیادی اصلاحات کی جائیں، تو جرائم کی سطح کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔