![]() |
| مارکیٹ میں نۓ نوٹوں کی بھرمار |
رپورٹ بیوروچیف زاہد شیخ
عیدالفطر پر نئے نوٹوں کی عدم دستیابی، بلیک مارکیٹ میں فروخت اور شہریوں کی پریشانی
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے عیدالفطر کے موقع پر عوام کو نئے کرنسی نوٹ فراہم کرنے کے لیے مختلف بینکوں کو اب تک ستائیس ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ تاہم، شہریوں کو بینکوں سے نئے نوٹ حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مختلف بینکوں میں جانے کے باوجود عوام کو نئے نوٹ دستیاب نہیں ہو رہے، جس کی وجہ سے شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔
دوسری جانب، بلیک مارکیٹ میں نئے نوٹوں کی تازہ گڈیاں مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں۔ مختلف مارکیٹوں میں نئے نوٹ اصل قیمت سے زیادہ نرخوں پر فروخت کیے جا رہے ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مخصوص عناصر ان نوٹوں کی غیر قانونی فروخت میں ملوث ہیں۔ عام شہری جو عید کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لیے نئے نوٹ لینا چاہتے ہیں، وہ مجبوراً بلیک مارکیٹ سے مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
اس صورتِ حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ فراڈی افراد نے سادہ لوح شہریوں کو نۓ نوٹوں کا لالچ دے کر ان کے پرانے نوٹوں سے بھی محروم کر دیا۔ کئی شکایات سامنے آئی ہیں جہاں جعل سازوں نے عوام کو دھوکہ دے کر ان کی رقم لوٹ لی۔ اس فراڈ میں ملوث افراد پہلے شہریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ انہیں نئی کرنسی فراہم کریں گے، اور بعد میں یا تو جعلی نوٹ تھما دیتے ہیں یا رقم لے کر غائب ہو جاتے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اسٹیٹ بینک کی جانب سے نئے نوٹ جاری کیے جا چکے ہیں تو یہ عام عوام تک کیوں نہیں پہنچ رہے؟ اگر بینکوں کے ذریعے یہ نوٹ مہیا نہیں کیے جا رہے تو بلیک مارکیٹ میں ان کی دستیابی کیسے ممکن ہو رہی ہے؟ اس تمام صورتحال نے عوام کو شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیا ہے۔
شہریوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ نئے نوٹوں کی فراہمی کا شفاف نظام بنایا جائے اور بلیک مارکیٹ میں فروخت کو سختی سے روکا جائے۔ ساتھ ہی جعل سازوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو ان کے حق سے محروم ہونے سے بچایا جا سکے
![]() |
| بیوروچیف زاہد شیخ |




0 تبصرے
Thank you very much for expressing your thoughts