میئر سکھر میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں دوسری جانب سکھر کے شہری سیپکو کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں

(سکھر بیورو چیف زاہد شیخ)

سکھر کی عوام ایک عرصے سے بدترین بجلی بحران، بدعنوانی، اور اوور بلنگ جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے ترجمان سندھ حکومت اور میئر سکھر کی جانب سے بھی یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ سیپکو (سکھر الیکٹرک پاور کمپنی) عوام کے ساتھ سنگین زیادتیوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سیپکو کی جانب سے دانستہ طور پر اوور بلنگ، یونٹس میں ڈیڈکشن کے نام پر ناجائز کٹوتیاں، اور بلاجواز لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات سے عوام شدید مالی و ذہنی اذیت کا شکار ہے۔ حیرت انگیز طور پر، نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ تاجر برادری بھی اس بدانتظامی کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہو چکی ہے کرپشن اور بدعنوانی کا بازار گرم
شہریوں اور ذرائع کے مطابق، سیپکو کے متعدد افسران کرپشن میں ملوث ہیں۔ بلوں کی درستگی کے بجائے صارفین کو دفتر در دفتر ذلیل و خوار کیا جاتا ہے۔ رشوت کے بغیر جائز کام ممکن نہیں رہا، اور معمولی تصحیح کے لیے بھی مہینوں کی دوڑ لگوانی پڑتی ہے شدید گرمی اور لوڈشیڈنگ – دوہرا عذاب گرمی کی شدت کے باوجود روزانہ کئی گھنٹوں کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ شہریوں کے لیے قیامت سے کم نہیں۔ بیمار، بزرگ، بچے اور خواتین سب اس اذیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ بجلی کی آنکھ مچولی سے نہ صرف گھریلو زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ صنعتی اور کاروباری سرگرمیاں بھی مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں سوال یہ ہے کہ… سیپکو کو لگام کون ڈالے گا؟
اگر ترجمان سندھ حکومت اور میئر سکھر خود اس مسئلے کو تسلیم کر چکے ہیں تو سوال یہ ہے کہ ان افسران کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو رہی؟ سیپکو سب ڈویژن ون کی عوام نے سکھر پریس کلب پر احتجاج کرتے ہوۓ سیپکو افسران کے رشوت اور کرپشن میں ملوث ہونے کا نا صرف انکشاف کیا بلکے میڈیا پر آکر انکے نام لیۓ انکی تصویروں کے بینرز آویزاں کیۓ مگر اسکے باوجود کیا سیپکو چیف اور دیگر بالا حکام نے انکے خلاف کوئ نوٹس لیا ؟ سب ڈویزن اولڈ سکھر کے ایس ڈی او نے پرانہ سکھر کے علاقے میں دکھاوے کے لیۓ سرچ آپریشن کیا کئ ناجائز کنکشن منقطع کیے اور بجلی کی تاریں ضبط کیں مگر افسوس ضبط شدہ تاریں واپڈا والوں نے 500 روپے لیکر واپس کردیں اور واپڈا ملازم کے رکھے گۓ پرائیوٹ الیکٹریشن نے ایس ڈی او کے آپریشن کے بعد واپسی سب کنڈا کنکشن واپس لگا دیۓ گۓ کیا عوام کو یونہی بدعنوان اہلکاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے گا؟ صوبائی اور وفاقی سطح پر جواب دہی کا کوئی نظام نظر نہیں آتا سکھر کی عوام کا مطالبہ ہے کہ سیپکو کے کرپٹ افسران کے خلاف فوری انکوائری اور قانونی کارروائی کی جائے اوور بلنگ کے شکار صارفین کو ریلیف فراہم کیا جائے  لوڈشیڈنگ کا شیڈول عوام کے سامنے لایا جائے اور بلاجواز بندش کا خاتمہ کیا جائے بجلی کے مسائل کے حل کے لیے ایک مستقل اور شفاف مانیٹرنگ سسٹم متعارف کروایا جائے۔
جب تک ان مطالبات پر عمل نہیں کیا جاتا، سکھر کی عوام اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی
بیورو چیف زاہد شیخ