![]() |
سندھ بھر کے وکلاء کو خوش آمدید، پانی اور گندم کے بحران پر مشترکہ آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے ایڈوکیٹ سردار الہی بخش انیل بھٹی
(بیوروچیف زاہد شیخ)
سکھر) ممتاز قانون دان ایڈوکیٹ سردار الہی بخش انیل بھٹی نے فرینڈز لا چیمبر، سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے 18 اپریل کو آنے والے وکلاء وفد کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان کا تہہ دل سے خیرمقدم کرتے ہیں نہ صرف فرینڈز لا چیمبر کی جانب سے، بلکہ بھٹی برادری اور سکھر کے تمام باشعور حلقوں کی طرف سے۔
انہوں نے کہا کہ وکلاء برادری کا یہ دورہ دراصل ایک اجتماعی احتجاج کی علامت ہے۔ "یہ پانی کا مسئلہ کسی ایک فرد یا شہر کا نہیں، بلکہ پورے سندھ کا مسئلہ ہے۔ چاہے شہری علاقہ ہو یا دیہی، ہر فرد اس بحران سے متاثر ہے۔ اس لیے شخص کو چاہیے کہ وہ اس تحریک کا حصہ بنے اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرے،"
ایڈوکیٹ انیل بھٹی نے گندم کے بحران پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "اس سال گندم کی پیداوار میں تقریباً 25 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے اور ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی واضح خریداری ریٹ مقرر نہیں کیا گیا۔"
انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات کسانوں کے لیے انتہائی مایوس کن ہیں۔ "یوریا، ڈیزل، بیج اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے، جب کہ مارکیٹ میں گندم کی قیمت محض 2000 سے 2200 روپے فی من ہے، جو کسانوں کے لیے سراسر نقصان دہ ہے۔"
ایڈوکیٹ الہی بخش انیل بھٹی نے موجودہ صورتحال کو "کارپوریٹ فارمنگ" کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ "کسانوں کو منافع نہ دے کر انہیں زمینیں فروخت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے تاکہ کارپوریٹ سیکٹر ان زمینوں پر قبضہ کر سکے۔"
پانی کی قلت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت دریاؤں اور نہروں میں پانی ناپید ہے، جس سے زرعی بحران مزید سنگین ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اگر خدانخواستہ چھ کنال کا منصوبہ مکمل ہو گیا تو سندھ شدید قحط سالی کا شکار ہو گا۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ سندھ کی عوام کی بیداری اور پرامن احتجاج کے باعث یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکے گا۔"
ایڈوکیٹ سردار الہی بخش انیل بھٹی نے اپنی گفتگو کا اختتام اس یقین دہانی کے ساتھ کیا کہ فرینڈز لا چیمبر اور وکلاء برادری ہر محاذ پر عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم رہے گی۔
![]() |
| بیوروچیف زاہد شیخ |




0 تبصرے
Thank you very much for expressing your thoughts