فائل فوٹو نصیر احمد

 سکھر میں سیپکو حکام کی جانب سے جاری ناجائز ڈیٹکشن، اوور ریڈنگ اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف شہریوں اور تاجروں میں شدید بےچینی پائی جا رہی ہے۔ 

(رپورٹ بیوروچیف زاہد شیخ)

سکھر: سیپکو افسران کی زیادتیوں کے خلاف احتجاج اور کھلی کچہری کا انعقاد، شہریوں کے مسائل جزوی طور پر حل سکھر میں سیپکو حکام کی جانب سے جاری ناجائز ڈیٹکشن، اوور ریڈنگ اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف شہریوں اور تاجروں میں شدید بےچینی پائی جا رہی ہے۔ ان زیادتیوں کے خلاف ایک تاجر تنظیم نے پرامن احتجاج کا اعلان کیا تھا، تاہم ایک روز قبل ہی دوسری تاجر تنظیم نے سیپکو افسران کو مدعو کرکے مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کر دیا کھلی کچہری میں سیپکو افسران نے تاجروں کے مسائل سنے اور بعض شکایات کو موقع پر ہی حل کیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کھلی کچہریوں میں مسائل حل ہو سکتے ہیں تو سیپکو دفاتر کا کردار محض رسمی کیوں رہ گیا ہے؟ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیپکو دفاتر میں سنوائی نہ ہونے کے باعث سکھر کے مختلف علاقوں میں آئے روز احتجاج ہوتے ہیں، مگر کوئی خاطر خواہ پیش رفت دیکھنے میں نہیں آتی حال ہی میں شہریوں نے سیپکو افسران کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کی تصاویر والے بینرز کے ساتھ سکھر پریس کلب کے باہر احتجاج کیا تھا۔ ان کا مؤقف ہے کہ ہر ماہ گھریلو و تجارتی صارفین کو ناجائز بلنگ، ڈیٹکشن چارجز اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سامنا رہتا ہے، اور ان مسائل کا حل محض احتجاج یا وقتی کچہریوں سے ممکن نہیں بلکہ ایک مربوط نظام کی ضرورت ہے۔
تاجروں اور شہریوں کی رائے ہے کہ اگر کھلی کچہریوں کے ذریعے فوری ریلیف ممکن ہے تو ایسی کچہریوں کا انعقاد سیپکو کے ہر ڈویژن میں باقاعدگی سے ہونا چاہیے، تاکہ ہر سطح پر صارفین کو درپیش مسائل کا حل ممکن بنایا جا سکے احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن اگر مسائل گھر کی دہلیز پر حل ہوں تو احتجاج کی نوبت ہی نہ آئے سوال یہ ہے کہ کیا تاجر تنظیم ہر ڈویژن میں کھلی کچہریوں کے انعقاد کریگی ؟ اور سیپکو انتیظامیہ اس پر سنجیدگی سے غور کرے گی ؟