![]() |
| ایڈوکیٹ قربان ملانو صدر ہائ کورٹ بار سکھر |
زاہد شیخ سکھر
ایڈوکیٹ قربان ملانو پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ گاڑیاں چھوڑنے کے عوض رقم وصول کر رہے ہیں۔ یہ سراسر جھوٹ اور من گھڑت الزام ہے جس کا مقصد صرف اور صرف اُن کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔
سب سے پہلے، ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آیا اس الزام میں کوئی حقیقت بھی ہے؟ اگر فرض کر بھی لیا جائے کہ کچھ گاڑی والے ٹول پلازہ کراس کرنے پر انہیں پیسے دے رہے ہیں تو سوال یہ ہے کہ کتنے؟ ہزار یا دو ہزار روپے؟ کیا واقعی ایک ایسا شخص جو اپنے آفس آنے جانے کے لیۓ ساٹھ سے ستر لاکھ روپے کی گاڑی میں سفر کرتا ہے، اسے ان معمولی رقوم کی ضرورت ہے؟
جو لوگ اسٹیشن پر پلیٹ فارم ٹکٹ نہیں خریدتے، موٹر سائیکل پارک کرنے پر پارکنگ فیس دینے سے جھگڑا کرتے ہیں، کیا وہ لوگ واقعی کسی کو خوشی سے ہزار یا دو ہزار روپے دیں گے؟ یہ سوچنا بھی غیر منطقی ہے۔
یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ جو ٹریفک ٹول پر روکی گئی ہے وہ صرف لوکل ٹریفک ہے، سٹی میں داخل ہونے والی گاڑیاں اس سے مستثنیٰ ہیں۔ مزید یہ کہ قربان ملانو نہ صرف سندھ ہائیکورٹ بار کے صدر ہیں بلکہ جوڈیشل کونسل کے بھی رکن ہیں۔ اُن پر اس طرح کا الزام لگانا انتہائی قابل مذمت ہے اور الزام لگانے والوں کو شرم آنی چاہیے۔
![]() |
| جنرل سیکریٹری آچر خان گبول |
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ یہ دھرنا جسے آج ہم چھے روز سے دیکھ رہے ہیں، اس کے تمام ابتدائی انتظامات قربان ملانو اور آچر گبول نے خود ترتیب دیے تھے۔ اس طرح کے الزامات دراصل ایک سازش ہیں جن کا مقصد وکلا کے اتحاد کو توڑنا اور ان کے درمیان اختلافات پیدا کرنا ہے۔
ہمیں ایسی جھوٹی ویڈیوز اور افواہوں پر ہرگز یقین نہیں کرنا چاہیے۔ سچ کو پہچانیں اور سچائی کے ساتھ کھڑے رہیں۔
بیورو چیف زاہد شیخ





0 تبصرے
Thank you very much for expressing your thoughts