سکھر ایجوکیشن کلرک محمد عباس ملک میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں

سکھر: بیورو چیف زاہد شیخ،

 ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کندھ کوٹ کے کلرک محمد عباس ملک نے سکھر پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس کانسٹیبل خلیل لغاری، جو اس وقت غیر قانونی طور پر تھانہ اے سیکشن کے ایس ایچ او اور 15 کے انچارج کے طور پر تعینات ہے، جس نے جھوٹا مقدمہ درج کر کے 10 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا۔

محمد عباس کے مطابق، خلیل لغاری نے ان پر اپنی ہی گاڑی کی چوری کا جھوٹا مقدمہ درج کرایا اور 10 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ وہ مجبوراََ اپنی زمین فروخت کر کے 3 لاکھ روپے ادا کر چکے ہیں، تاہم باقی رقم نہ دینے پر پولیس اہلکار نے انہیں جیل بھجوا دیا اور ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں کرنا شروع کر دیا۔

کلرک محمد عباس نے بتایا کہ اس ناانصافی کے خلاف ان کی والدہ نے آئی جی سندھ کے دفتر کے باہر احتجاج کیا، جس پر آئی جی سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی سکھر فیصل عبداللہ چاچڑ کو انکوائری کا حکم دیا۔ انکوائری رپورٹ میں خلیل لغاری کو قصوروار قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی، تاہم اب تک کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عدالت بھی خلیل لغاری کے خلاف کارروائی کا حکم دے چکی ہے، مگر اس کے باوجود پولیس افسران بااثر اہلکار کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ پولیس نے آئی جی سندھ کے احکامات کو بھی نظر انداز کر دیا ہے۔

محمد عباس نے الزام لگایا کہ خلیل لغاری انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا، "اگر مجھے یا میرے گھر والوں کو کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار صرف اور صرف پولیس کانسٹیبل خلیل لغاری ہوگا۔"

انہوں نے اعلان کیا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ وزیرِاعلیٰ ہاؤس کراچی کے باہر احتجاج کریں گے، اور شنوائی نہ ہونے کی صورت میں بلاول ہاؤس کے سامنے احتجاجی کیمپ لگا کر دھرنا دیں گے، جو اس وقت تک جاری رہے گا جب تک انہیں انصاف فراہم نہیں کیا جاتا۔
بیوروچیف زاہد شیخ