تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی مرکزی قیادت—محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، سید زین شاہ اور دیگر رہنماؤں—کی اپیل پر ملک بھر کی طرح ضلع سکھر میں بھی 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے خلاف پُرامن مگر بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے ملک میں جاری مبینہ ظلم، جبر اور فسطائیت کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے آئین کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا۔


احتجاج میں پاکستان تحریکِ انصاف، سندھ یونائیٹڈ پارٹی اور مجلس وحدت مسلمین کی ضلعی قیادت کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں سیاسی کارکنان اور شہریوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر آئین کی سربلندی، بنیادی حقوق کے احترام اور جمہوری آزادیوں کے تحفظ کے مطالبات درج تھے۔


مظاہرے کی قیادت مجلس وحدت مسلمین ضلع سکھر کے صدر ایڈوکیٹ محسن سجاد اترا اور جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ احسان علی شر نے کی، جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف ضلع سکھر کے صدر ایڈوکیٹ عبدالعزیز ابڑو اور جنرل سیکریٹری علی تقی شاہ بھی نمایاں طور پر پیش پیش رہے۔ اس کے علاوہ سندھ یونائیٹڈ پارٹی ضلع سکھر کے صدر عیدن جاگیرانی اور جنرل سیکریٹری ماجد ڈنور نے بھی احتجاج کی سرپرستی کرتے ہوئے شرکاء کے جذبات کو سراہا۔


شرکاء نے کہا کہ آئینِ پاکستان ریاست اور عوام کے درمیان بنیادی عمرانی معاہدہ ہے جس میں کسی قسم کی کمزوری یا انحراف برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ وکلاء تحریک کی غیر متزلزل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے مظاہرین نے واضح کیا کہ ملک کا مستقبل صرف آئینی حکمرانی، شفافیت اور جمہوری اقدار کے استحکام سے ہی وابستہ ہے۔


احتجاج پُرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوا، جس کے دوران شرکاء نے آئینی و جمہوری جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

بیوروچیف زاہد شیخ