تحریر امداد بوزدار 
سکھر عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نئے تعینات میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) نے بھی آتے ہی اسپتال میں موجود کرپٹ مافیا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں، جبکہ غریب اور بے سہارا مریض آج بھی بنیادی ادویات کے لیے ترس رہے ہیں۔
مریضوں اور ان کے لواحقین نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ہم علاج کے لیے اسپتال آتے ہیں، لیکن ہمیں صاف الفاظ میں کہہ دیا جاتا ہے کہ دوائیں نہیں ہیں، بازار سے لے آؤ۔ اگر ہمارے پاس پیسے ہوتے تو سرکاری اسپتال کیوں آتے؟”
سول ہسپتال سکھر میں تیمارداری کے لیے آۓ افراد سرد موسم میں باہر بیٹھے ہیں

ایک بزرگ مریض نے آبدیدہ ہو کر کہا، “یہ اسپتال نہیں، غریبوں کے لیے سزا خانہ بن چکا ہے۔”
ذرائع کے مطابق سول اسپتال سکھر کو کروڑوں روپے کا سالانہ بجٹ دیا جاتا ہے، مگر اس کے باوجود اسپتال کے وارڈز میں بنیادی ادویات ناپید ہیں۔ حیران کن طور پر اسپتال کے کاغذی ریکارڈ میں ہر دوا “دستیاب” ظاہر کی جاتی ہے، جس پر شہریوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا، “اگر دوائیں موجود ہیں تو پھر مریضوں کو باہر کیوں بھیجا جا رہا ہے؟ اور اگر نہیں ہیں تو پھر یہ اندراجات کس کی جیب بھرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں؟”
سماجی کارکنوں اور شہری نمائندوں نے بھی شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا، “نئے ایم ایس نے چارج سنبھالتے ہی میڈیا پر بڑے بڑے دعوے کیے تھے کہ سول اسپتال سکھر کو مثالی ادارہ بنایا جائے گا، کرپشن کا خاتمہ ہوگا اور مریضوں کو ہر سہولت فراہم کی جائے گی، لیکن زمینی حقائق ان دعوؤں کی مکمل نفی کر رہے ہیں۔”
ایک سماجی رہنما نے طنزیہ انداز میں کہا، “شاید اصلاحات صرف فیس بک پوسٹس اور پریس بیانات تک محدود تھیں۔”
شہریوں نے ایم ایس سے براہِ راست سوال کرتے ہوئے کہا، “کیا عوام کو محض تسلیاں دے کر خاموش کرانا مقصد تھا؟ اگر واقعی تبدیلی آئی ہے تو وہ نظر کیوں نہیں آ رہی؟ کیوں آج بھی غریب مریض دواؤں، توجہ اور بنیادی سہولیات کے لیے تڑپ رہے ہیں؟”
عوامی حلقوں نے وزیر صحت سندھ اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سول اسپتال سکھر میں ادویات کی خریداری، اسٹور ریکارڈ اور بجٹ کے استعمال کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ شہریوں کا کہنا ہے، “اب مزید وعدے نہیں، ہمیں جواب اور عمل چاہیے۔”
سول اسپتال سکھر کی موجودہ صورتحال ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ کرپشن کا سب سے بڑا نشانہ ہمیشہ غریب عوام ہی بنتے ہیں۔