![]() |
| میر عبدالرحمان مینگل اور مئیر سکھر کے درمیان مکالمہ |
میر عبدالرحمان مینگل کی جرات مندانہ تقریر، ایوان میں سناٹا چھا گیا
سکھر میں منعقدہ بھرے عوامی و نمائندہ اجلاس کے دوران میر عبدالرحمان مینگل نے پیپلز پارٹی سے وابستگی کے باوجود سکھر کے عوام کے حقوق کے لیے مئیر سکھر سے بے باک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کروڑوں روپے کی مبینہ لوٹ مار پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کی یہ جرات مندانہ تقریر گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
میر عبدالرحمان مینگل نے اپنے خطاب میں کہا کہ سکھر کے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر خطیر رقوم خرچ کی جا رہی ہیں، مگر عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے ایوان کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندوں کی اکثریت حقائق بیان کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے اس خاموشی کی وجہ بھی واضح کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اکثر اراکین کو ماہانہ بارہ لاکھ روپے تک کے فنڈز مل رہے ہیں، جس کے باعث وہ عوامی مسائل پر آواز اٹھانے سے گریز کر رہے ہیں۔ میر مینگل کے اس بیان کے دوران ایوان میں موجود دیگر اراکین کی جانب سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق میر عبدالرحمان مینگل کی یہ تقریر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سکھر میں ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم پر عوامی سطح پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خطاب عوامی نمائندگی اور سیاسی جرات کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اجلاس میں شریک دیگر اراکین کی خاموشی نے سیاسی حلقوں میں خوشامد اور چاپلوسی کے کلچر پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ شہری حلقوں کی جانب سے میر عبدالرحمان مینگل کے مؤقف کو سراہا جا رہا ہے اور اسے عوامی حقوق کی آواز قرار دیا جا رہا ہے۔
![]() |




0 تبصرے
Thank you very much for expressing your thoughts