بیورو چیف زاہد شیخ
![]() |
| ایس ایس پی سکھر اظہر مغل |
![]() |
| اضافی چارج سنبھالنے والے ڈی آئ جی سکھر ناصرآفتاب |
سکھر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہے۔ ایک طرف کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف پولیس کی جاری کارروائیاں ہیں، تو دوسری جانب شہری حدود میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتیں عوام میں عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ تین ماہ گزرنے کے باوجود اہم انتظامی عہدہ ڈی آئی جی سکھر تاحال مستقل بنیادوں پر پُر نہیں کیا جا سکا، جبکہ اضافی چارج بدستور ناصر آفتاب کے پاس ہے۔ ایک حساس اور اسٹریٹیجک نوعیت کی پوسٹ کا طویل عرصے تک خالی رہنا نہ صرف انتظامی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس کے اثرات براہِ راست امن و امان کی صورتحال پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
شہر میں چوری اور موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتوں میں واضح اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہری دن دیہاڑے لٹ رہے ہیں اور ملزمان بآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا ہو رہا ہے۔
مزید برآں، عوامی شکایات کے مطابق ایس ایس پی سکھر اکثر اپنے دفتر میں دستیاب نہیں ہوتے، جس کے باعث شہریوں کو اپنی شکایات کے ازالے کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک فعال اور جوابدہ قیادت کی عدم موجودگی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
اگر اس صورتحال کو ایک مثال سے بیان کیا جائے تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ جب کسی نظام کی قیادت غیر واضح یا غیر موجود ہو، تو نظم و ضبط کمزور پڑ جاتا ہے اور ذمہ داریوں کا احساس بھی متاثر ہوتا ہے۔ یہی کیفیت اس وقت سکھر میں دیکھنے کو مل رہی ہے، جہاں مؤثر قیادت کی کمی انتظامی ڈھانچے کو کمزور کر رہی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور پر ڈی آئی جی سکھر کی مستقل تعیناتی عمل میں لائی جائے، پولیس کی کارکردگی کو مؤثر بنایا جائے، اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
![]() |
| بیوروچیف زاہد شیخ |





0 تبصرے
Thank you very much for expressing your thoughts